نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) حکومت نے بدھ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ رافیل طیارے سودے سے متعلق دستاویزات وزارت دفاع سے چوری ہوگئے ہیں اور درخواست گزار ان دستاویزات کی بنیاد پر طیاروں کی خریداری کے خلاف درخواست منسوخ کرنے کے فیصلے پرنظرثانی چاہتے ہیں۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے اپنے دسمبر، 2018 کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سابق وزیر یشونت سنہا اور ارون شوری اور وکیل پرشانت بھوشن کی درخواستوں پر سماعت شروع کی۔نظر ثانی درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالت میں جب رافیل سودے کے خلاف مفاد عامہ درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا تو مرکز نے اہم حقائق کو اس سے چھپایا تھا۔پرشانت بھوشن نے جب سینئر صحافی این رام کے ایک مضمون کا حوالہ دیا تو اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مضمون چوری شدہ دستاویزات پر مبنی ہیں اور اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔وینو گوپال نے کہا کہ اس سینئر صحافی کا پہلا مضمون 6فروری کو ’دی ہندو‘ میں شائع ہوا اور بدھ کے ورژن میں بھی ایک خبر ہے جس کا مقصد عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنا ہے اور یہ عدالت کی توہین کی طرح ہے۔
وینو گوپال نے نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کرنے اور ’دی ہندو‘ میں شائع مضامین کی بنیاد پر پرشانت بھوشن نے بحث کرنے پر اعتراض کیا تو بنچ نے مرکز سے جاننا چاہا کہ جب وہ الزام لگا رہی ہے کہ یہ مضمون چوری کے مواد پر مبنی ہیں تو اس نے اس میں کیا کیا ہے؟ سنہا، شوری اور خود اپنی طرف سے بحث شروع کرتے ہوئے بھوشن نے کہا کہ رافیل سودے کے اہم حقائق کو اس وقت چھپایا گیا جب اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی جانچ کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ان حقائق کو عدالت سے چھپایا نہیں گیا ہوتا تو یقیناًعدالت عظمی نے ایف آئی آر درج کرکے جانچ کرانے کے لیے دائر درخواست منسوخ نہیں کی ہوتی،اگرچہ وینو گوپال نے کہا کہ بھوشن جن دستاویزات کو اپنا بنیاد بنا رہے ہیں، انہیں وزارت دفاع سے چوری کیا گیا ہے اور اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بھوشن کو سننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت رافیل سودے کے دستاویزات ریکارڈ پر لے رہی ہے۔انہوں نے وینو گوپال سے جاننا چاہا کہ اس سودے سے متعلق دستاویزات چوری ہونے کے بعد حکومت نے کیا کارروائی کی۔اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزاروں نے جن دستاویزات کو اپنا بنیاد بنایا ہے، ان پر خفیہ اور درجہ بندی لکھا تھا اور اس وجہ سے یہ سرکاری رازداری قانون کی خلاف ورزی ہے۔وینو گوپال نے نظر ثانی درخواستوں اور غلط بیانی کے لیے دائر درخواست منسوخ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کا بنیاد چوری کے دستاویز ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ’دی ہندو‘ اخبار کی رافیل کے بارے میں خبر عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے جیسا ہے اور یہ اپنے آپ میں عدالت کی توہین ہے۔بنچ نے وینو گوپال سے کہا کہ وہ وقفے کے بعد ان دستاویزات کے چوری ہونے سے متعلق واقعات اور مرکز کی طرف سے کی جا رہی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کرائیں۔